No comments yet

دیہی علاقوں میں ہر ہزار بچوں میں 106بچے دوران حمل زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ، مشعل پاکستان

کوئٹہ ،
بلوچستان کے میڈیا کو صوبے میں عوام کو درپیش پوشیدہ بھوک کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کیلئے عوام کو شعور وآگاہی دینا ہوگی ،اس وقت پاکستان میں 37.8ملین لوگ خوراک کی کمی کا شکارہے بلکہ بلوچستان میں 82فیصد سے زیادہ خواتین کو دوران حمل وٹامن کی دستیابی ممکن نہیں ،پوشیدہ بھوک کے خاتمے کیلئے بہتر غذائیت اور پائیدار زراعت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے اس سلسلے میں فوری اقدامات مثبت نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوگی ۔

غیر سرکاری تنظیم مشعل پاکستان کی پروگرام منیجر آمنہ صباحت ، پروجیکٹ منیجر نداکریم ،سینئر صحافیوں سلیم شاہد اور سید علی شاہ نے مشعل کے زیراہتمام بلوچستان میں ’’پوشیدہ بھوک کے خاتمے سے متعلق کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ صحافیوں کے ورکشاپ سے خطاب میں کہاکہ اس وقت دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں پوشیدہ بھوک اور غذائیت کی کمی سنگین ترین مسائل میں شامل ہیں ۔

کوئٹہ، مشعل پاکستان کے زیر اہتمام پریس کلب میں بچوں میں غذائی کمی کے حوالے سے منعقدہ صحافیوںکے تربیتی ورکشاپ سے پروگرام منیجر آمنہ صباحت خطاب کررہی ہے، جبکہ اس موقع پر پروجیکٹ منیجر ندا اکرم اور سینئر صحافی سید علی شاہ بھی موجود ہیں۔

پاکستان میں ایک طرف لوگوں کی بڑی تعداد غربت کی لکھیر سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے تو دوسری جانب یہاں شرح خواندگی میں کمی بھی مسائل کو سنگین بنارہاہے ،اسی لئے نہ صرف دیہی علاقوں میں ہر ہزار بچوں میں 106بچے دوران حمل زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں بلکہ 74بچے شہری علاقوں میں بھی اسی کے باعث موت کے اغوش میں چلے جاتے ہیں بلکہ اکثر وبیشتر بچے پیدائش کے بعد ذہنی اور جسمانی کمزوریوں کے شکار ہوتے ہیں نہ صرف ان کے قد عمر کے حساب سے کم ہوتے ہیں بلکہ دیگر کمزوریوں کا بھی انہیں سامنا کرناپڑتاہے ۔

بلوچستان میں دوران حمل صرف 17.3فیصد خواتین کو ہی درکار وٹامن میسر ہوتی ہے انہوںنے کہاکہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو ہیلتھ سسٹم اور پالیسیوں کو بنانے کے حوالے سے زیادہ اختیارات مل چکے ہیں ،اس لئے صوبے میں اس حوالے سے میسر پالیسی سازی ہونی چاہئے اس سلسلے میں صوبے کے منتخب نمائندوں کے ساتھ بھی سیشن کاانعقاد ضروری ہے ،انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستان میں 37.8ملین افراد خوراک کی کمی کاسامنا کررہے ہیں ،پوشیدہ بھوک کے خاتمے کیلئے بہتر غذائیت اور پائیدار زراعت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے جس کیلئے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے ،جبکہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری طویل مدت تک فائدہ مند ثابت ہوتاہے .

Post a comment

%d bloggers like this: